مختصر تذکرہ حضرت سید شاہ عضدالدین محمد جعفری چشتی صابری متوکل امروہویؒ
ہندوستان میں۱۷؍ویں صدی عیسوی میں امروہہ چشتیت کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں ندوۃالعارفین حضرت سیّد شاہ عبدالمجید صابری چشتی ؒ کی خانقاہ بندگانِ خدا کی روحانی تربیت کا سب سے بڑا مرکز تھی۔ جس کاشہرہ دور دور تک تھا۔شیخ الکبیر حضرت شا ہ محب اللہ الہ ابادی ؒ کے خلیفہ حضرت سیّد شاہ محمّدی فیّاض اکبرابادیؒ اپنے سفرِ حیات کے دوران سیّد شاہ عبدالمجید صابری چشتی ؒ کے خلیفہ و جانشین حضرت سید شاہ عبدالحکیم چشتی صابریؒ سے ملاقات کے لئے امروہہ تشریف لائے۔ دوسری بار ۱۶۵۸ء میں امروہہ کاسفر کیا۔اس دوران کچھ حضرات نے آپ سے بیعت و ارادت کا شرف بھی حاصل کیا ۔ تیسری بار حضرت سید شاہ عبدالحکیم چشتی صابریؒ کے انتقال ۱۶۶۰ء کے بعدامروہہ تشریف لائے تو اہلِ شہر آپکے ایسے گرویدہ ہوئے کہ باہمی صلاح ومشورے سے آپکا نکاہ حضرت شاہ فیض اللہ چشتی صابریؒ کی صاحبزادی مسماۃ صاحبِ دولت سے کرا دیا گیا۔ حضرت شاہ فیض اللہ چشتی صابریؒ شاہ عبدالمجید چشتی ؒ اور شاہ عبدالحکیم چشتی ؒ کے چھوٹے بھائی تھے۔اب آپ نے امروہہ میں اپنا مستقل قیام فرمایا ۔جس علاقے میں آپنے سکونت اختیار فرمائی وہ آج تک محمّدی سرائے کے نام سے امروہہ کے مغربی حصّہ میں موجود ہے۔حضرت سیّد شاہ سعد محمّد مکّی ؒ اور حضرت سیّد شاہ روشن مدنی ؒ آپ کے دو صاحبزادے ہوئے۔ افلاطون دندان صاحب قرابادین حکیم سیّد شاہ جلال الدین جعفریؒ حضرت سیّد شاہ سعد محمد مکّیؒ کے ہی صاحبزادے ہیں۔ جنکی بدولت روہیلکھنڈ طب یونانی کے معجزات سے واقف ہوا۔
حضرت سیّد شاہ حامد ہرگامی چشتی صابری ،حضرت سیّد شاہ محمّدی فیّاض چشتی صابری ؒ کے حقیقی بھائی تھے جو آپ سے ملاقات کے لئے امروہہ تشریف لائے تو آپ کا نکاہ حضرت سیّد شاہ فیض اللہ چشتی صابریؒ کی دوسری صاحبزادی سے ہوا۔ جن کے بطن سے شیخ العالم بندگی حضرت مولانا سیّد شاہ عضدالدین محمّد جعفری چشتی صابری ؒ ۲۸؍رجب المرجب۱۱۷۲ھ بمطابق ۱۰؍جنوری ۱۶۶۷ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم عربی و فارسی کی تکمیل کے بعدآپنے سنسکرت میں یدِ طولٰی حاصل کیا۔آپ ہمیشہ ہندوی زبان میں گفتگو کرنا پسند فرماتے۔آپ نے سنسکرت زبان میں وحدت ا لوجودپر ایک بڑی اہم تصنیف بھی لکھی تھی جسکا نام ستیہ سروور تھا ۔جس میں اللہ ربُّ العزّت کے اسماء عالیہ کی تشریح کی گئی تھی۔مگر تصوّف میں آپ کی سب سے اہم تصنیف مقاصد العارفین ہے ۔ جس میں نظریہ کمالات اسماء اور وحدت الوجود پر گراں مباحثہ پیش کئے۔ اس کے علاوہ آپکی ایک تصنیف قوّت الکلام ہے جو لغت کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے جس میں ایک لفظ کے معنی چار زبانوں میں موجود ہے۔جو چند سال پہلے ہی رضا لائبریری سے چھپ کر منظرِعام پر آئی ہے۔آپ کے صاحبزادے حضرت سیّد شاہ معیز الدّین جعفری چشتی صابری المعروف میاں موج ؒ ہیں۔جن کے اسمِ مبارک سے درگاہ اور خانقاہ مشہور ہوئی۔حضرت سیّد شاہ معیز الدین جعفری چشتی صابری المعروف میاں موجؒ بھی علوم ظاہری و باطنی میں نہایت بلند مقام رکھتے تھے۔آپکو نفسِ گیرا حاصل تھا یعنی جو زبان مبارک سے نکل جاتا پورا ہو جاتا تھا۔آپ ہندی بھاشا میں شاعری بھی کرتے تھے۔ کچھ ہی زمانے پہلے تک قوّال آپ کے کلام گایا کرتے تھے۔ حضرت سیّد شاہ عضدالدین محمد جعفری چشتی صابریؒ کے ایک اور خلیفہ ہوئے جنکا اسمِ گرامی حضرت شاہ عبدالہادی چشتی صابری ؒ ہے۔ حضرت سیّد شاہ عضدالدین محمد جعفری چشتی صابریؒ ہی کا فیضِ نظر تھا جس کی بدولت ہندوستان کے علماء اکرام کی کثیر تعداد سلسلۂ عالیہ صابریہ میں داخل ہوئی اور تمام دنیا میں حاجی امداداللہ مہاجر مکّی ؒ کے ذریعہ صابری سلسلہ کا فروغ ہوا۔ آپ کے بڑے فرزند حضرت مولانا سیّد شاہ بدرالدین جعفری چشتی صابریؒ ہیں۔ جنہوں نے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل کے بعد اپنے اوقات کو ذکر و استقلال اور اعمال و وظائف سے معمور رکھا ۔ حضرت مولانا سیّد شاہ بدرالدین جعفری چشتی صابریؒ کے فرزند دلبند حضرت سیّد شاہ قیام ا لدّین جعفری چشتی صابریؒ ہیں۔ جن کی ولادت ۱۸۲۸ء کے لگ بھگ ہوئی تھی۔آپ کے حالات پرآپ کے مرید صوفی نوراللہ عیش صدیقی امروہوی نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام صیقل القلوب تھا ۔جس میں حضرت سیّد شاہ جی قیام ا لدّین جعفری چشتی صابریؒ کی کرامات کو ان کے ہمعصروں کی زبان سے مرتب کیا گیا تھا۔
حضر ت سیّد شاہ قیام الدین جعفری چشتی صابری ؒ سالک مجزوب بزرگ تھے۔انھیں بھی اپنے اجداد کی طرح نفسِ گیرا حاصل تھا ۔جو فرماتے وہی من و عن آپ کے فرزند و جانشین حضرت سید شاہ سعیدالدین چشتی صابریؒ تھے۔ آپ لاولد ہی اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے۔ حضرت سیّد شاہ قیام الدین جعفری چشتی صابری ؒ کے دوسرے فرزند حضرت سیّد شاہ نطام الدین جعفری چشتی صابری ؒ تھے جن کے فرزند حضرت سیّد شاہ علاء الدین جعفری چشتی صابری ؒ تھے جو خاندانی وراث و جانشین ہوئے۔جو نہایت خوش مزاج اور خاندان کی جملہ خصوصیات کے وارث اور امین ہوئے۔ حضرت سیّد شاہ علاء الدین جعفری چشتی صابری ؒ کے بڑے فرزند حضرت سیّد شاہ جمال الدین چشتی صابری ؒ تھے ۔ لیکن آپ عین عالمِ جوانی میں ہی اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ حضرت سیّد شاہ علاء الدین جعفری چشتی صابری ؒ کے چھوٹے فرزند حضرت سیّد شاہ معین الدین جعفری چشتی صابری المعروف بابو میاںؒ جانشین و صاحبِ سجادہ ہوئے۔جو نہایت خوش طبع ، نرم مزاج ، خوش اطوار ، نیک کردار ،ذاکر و شاغل اور کشف و شہود بزرگ تھے۔اس خاندان کے بزرگوں کی شان اور امتیاز توکّل ہے۔اور وہ شان آج بھی اسی طرح باقی ہے۔خانقاہ کی کوئی مستقل آمدنی نہ کبھی پہلے تھی اور نہ آج ہے لیکن عنایتِ ایزدی سے ملا کارخانہ کل بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ چل رہا تھا اورآج بھی جاری و ساری ہے۔ حضرت سیّد شاہ معین الدین جعفری چشتی صابری المعروف بابو میاںؒ کے تین صاحبزادے ہوئے۔سید محمّد مطلب جعفری،سیّد محمّد طاہر جعفری اور سیّد محمّدطیّب جعفری۔حضرت بابو میاںؒ کے وصال کے بعد آپکے بڑے فرزند ڈاکٹر سیّد شاہ محمد مطّلب جعفری چشتی صابری مدظلہ عالی مسندِ سجادگی پر رونق افروز ہیں۔آپ اپنے اسلاف کے سچّے وارث اور امین ہیں۔آپ کی ذاتِ بابرکت میں خاندانی توکّل کا امتیاز بدرجہ الہ موجود ہے۔انھیں سلسلہ کے متوسلین ہی نہیں شہر امروہہ میں ہر دل عزیزی اور مقبولیت حاصل ہے اور ہر شخص بے اختیار محبّت کرنے پر مجبور ہے۔
الغرض اس خانوادہ میں فقرو توکّل،کشف وشہود، انساں دوستی، شریعت وطریقت کی شان آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔اللہ ربّ العزّت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ تا قیامت اسی طرح یہ شان و شوکت جاری و ساری رہے۔
آمین یا ربّ العالمین
از قلم۔۔سید ہادی عظیم جعفری
عرس مبارک
حضرت سیّد شاہ عضدالدین چستی صابری رہمتللہ عالیہ کا عرس ہر سال 26 - 27 رجب کومنایا جاتا ہے- 2018 مے یہ عرس 14-16 اپریل کو منایا گیا- عرس مے پورے ملک سے تمام زیریں نے شرکت کی- عرس کی رسمات مے محفل ناتخوانی، قران خوانی، قل شریف، محفل سماع ، غلاف پیشی، اور لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے-